نئی دہلی،13/جولائی (ایس او نیوز/ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) ترمیمی بل 2019اور ان لا ء فل ایکٹیوٹیزایکٹ ترمیمی بل 2019کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آئین میں دیئے گئے انفرادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے لہذاان قوانین میں ترمیم کرنے کے بجائے ان کو فورا منسوخ کرنا چاہئے۔ ان لاء فل ایکٹیوٹیز ترمیمی بل 2019 کو لوک سبھا میں مملکتی وزیر داخلہ کشن ریڈی نے متعارف کراتے ہوئے حکومتوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ افراد کو دہشت گرد کے طور پر نامزد کریں۔اب تک بہت سے حکومتوں نے مخالف تنظیموں پر دہشت گردی کا ٹیگ لگانے کے بعد ان پر پابندی عائد کرنے کیلئے اس قانون کا غلط استعمال کیا ہے۔اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے ساتھ مشتبہ روابط رکھنے والے فرد کو با ب VIمیں ترمیم کرکے لفظ 'انفرادی'کوشامل کرکے اسے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے یہ آئین میں ایک فرد کو حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ یو اے پی اے عوام کو عام قانون کی قانونی طریقہ کارسے روکنے اور انہیں جیل میں محدود کرنے کیلئے نہیں ہے۔عام طور پر ثبوت جمع کرنے کا بوجھ پولیس پر آتا ہے لیکن UAPAکے تحت جس فرد پر الزام عائد ہے اس کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہوتی ہے۔ جس پر الزام عائد ہے اس کو بالآخر رہائی تو مل جاتی ہے لیکن اس سے قبل اس کا کافی وقت ضائع ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی برباد ہوجاتی ہے۔رہائی سے قبل ملزم کو ایک طویل قانونی عمل سے گذرنا پڑتا ہے۔اس سے اس کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے اور اس کومعاشرے میں اپنے آپ کو جوڑنے میں دشواری ہوتی ہے۔ متاثر فرد کو اس طرح کے تلخ تجربہ کا زخم طویل عرصہ تک رہتا ہے۔ اس قانون میں پیشگی ضمانت کا کوئی پراوژن موجود نہیں ہے۔ضمانت مشکل ہے کیونکہ آپ کو بادی النظر ثابت کرنا ہوگا کہ کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ ترمیمی بل میں تحقیقاتی ایجنسی کو موجودہ تین مہینے کے بجائے چھ مہینے میں چارج شیٹ دائر کرنے کی اجازت حاصل ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے ا س بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ UAPAایک ایسا غلط استعمال کیا گیا کالا قانون ہے جس سے کئی نوجوانوں کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے اور کئی مرتبہ ایک خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت جیل بھیجا گیا ہے۔ترمیمی بل میں فرد کو شامل کرنے سے سیاسی انتقام کا کیلئے راستہ پیدا ہوگا۔2008میں UAPAمیں جو ترمیم کیا گیا تھا اس سے یہ پہلے سے ہی انتہائی متنازع تھا۔اس نے حکومتوں کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے خلاف کارروائی کرنے کے اختیارات فراہم کی تھی۔شروع ہی سے سول حقوق کی تنظیموں کو اس بات کا خدشہ تھا کہ اقلیتوں، دلتوں،انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں اختلاف رائے رکھنے والوں کو نشانہ بنا کر ان کے خلاف بڑے پیمانے پر یوا ے پی اے قانون کا غلط استعمال کیا جائے گا۔اس بات کا بھی یہاں ذکر کرنا ضروری ہے کہ یواے پی اے کے تحت جو مقدمات ہیں ان میں 98فیصد ابھی بھی عدالت میں زیر التواء ہیں۔سول حقوق پر مودی حکومت کا ریکارڈبہت متنازعہ ہے۔سول کارکنان،وکلاء اور دانشوران کوان کے اختلافی نظریات پر انہیں اربن نکسل قرار دیکر ان پر اس قانون کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔مودی حکومت چاہتی ہے کہ اس قانون کو مزید مہلک بناکرمخالفین کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے۔ایس ڈی پی آئی اس کی سختی سے مذمت کرتی ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ملک میں آزادی اور بنیادی حقوق کو بچانے کیلئے متحد ہوجائیں۔